فہرست
خود کی دریافت
ایک انقلاب، ہر میدان میں
تحریر: نوید جمیل
فہرست
باب 1
کیا میں دیر سے جاگا ہوں؟
تحریر: نوید جمیل
بعض اوقات انسان کی زندگی ایک سوال سے بدل جاتی ہے، اور بعض اوقات ایک سوال پوری زندگی انسان کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔
— نوید جمیل
میں اکثر خود سے ایک سوال پوچھتا تھا: کیا میں دیر سے جاگا ہوں؟ یہ سوال میرے ذہن میں اُس وقت پیدا ہوا جب میری عمر 33 سال تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ شاید میں نے اپنی زندگی کا سب سے اہم راز بہت دیر سے سمجھا ہے۔
میرے دل میں ایک حسرت تھی — کاش 16 یا 20 سال کی عمر میں کوئی ایسا استاد، رہنما یا لیڈر مل جاتا جو مجھ سے یہ سوال پوچھتا: "نوید! تم آخر ہو کون؟" نہ تمہارا نام، نہ تمہاری ڈگری، نہ تمہارا کاروبار — بلکہ تمہارا حقیقی وجود کیا ہے؟
اگر اُس عمر میں کسی نے مجھے یہ سوال سکھا دیا ہوتا، تو شاید میری زندگی کا راستہ بہت پہلے واضح ہو جاتا۔ لیکن زندگی ہمیشہ ہماری خواہشات کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی کبھی زندگی ہمیں دیر سے نہیں جگاتی — بلکہ اُس وقت جگاتی ہے جب ہم جاگنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
پھر ایک دن میں نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا۔ میں نے ایسے افراد سے ملاقات کی جن کے نام کے ساتھ بڑی بڑی ڈگریاں لکھی تھیں — کوئی MBA، کوئی PhD، کوئی ڈاکٹر، کوئی انجینئر، کوئی بیوروکریٹ، کوئی بڑی کمپنی کا ایگزیکٹو۔ میں ان سب کا احترام کرتا تھا، کیونکہ علم اور محنت ہمیشہ قابلِ احترام ہیں۔
لیکن میرے ذہن میں ایک سوال پھر بھی موجود تھا: کیا ڈگری حاصل کر لینا ہی انسان کی آخری منزل ہے؟ یا اس کے بعد بھی کوئی ایسا سفر باقی رہ جاتا ہے جو صرف انسان کو خود طے کرنا ہوتا ہے؟
میں نے گفتگو کی، مشاہدہ کیا، سنا، سوال پوچھے — اور پھر مجھے ایک حقیقت کا احساس ہوا: بہت سے لوگ اپنے پیشے کو تو خوب جانتے ہیں، مگر اپنے آپ کو جاننے کا سفر ابھی شروع ہی نہیں کر پاتے۔ یہ ہر شخص کے بارے میں درست نہیں، لیکن میں نے اپنے تجربات میں یہ منظر بار بار دیکھا۔ تب مجھے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ شاید انسان کی سب سے بڑی کمی علم کی نہیں، بلکہ خود آگاہی کی ہوتی ہے۔
پھر میں نے اپنی زندگی کی طرف دیکھا۔ میری تعلیم صرف میٹرک (سائنس) تھی۔ میرے خاندان میں کوئی بڑا صنعت کار یا کاروباری شخصیت نہیں تھی۔ میرے پاس کوئی ایسا استاد بھی نہیں تھا جو مجھے زندگی کا مکمل نقشہ دے دیتا۔ میرے پاس صرف تین چیزیں تھیں — سوال، مشاہدہ، اور سیکھنے کی بے چینی۔
میں نے زندگی کو کتابوں سے کم اور انسانوں سے زیادہ پڑھا۔ میں نے تقریباً دس ہزار خاندانوں کے ساتھ کام کیا۔ میں نے صرف رشتے نہیں دیکھے — میں نے امید دیکھی، خوف دیکھا، محبت دیکھی، انا دیکھی، کامیابی اور ناکامی دونوں دیکھیں۔ اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ انسان پوری زندگی دوسروں کو سمجھنے میں لگا رہتا ہے، مگر خود کو سمجھنے کے لیے شاید ہی کبھی رکتا ہے۔
اسی سفر نے میرے اندر ایک نیا سوال پیدا کیا: اگر ایک انسان اپنے آپ کو 50 سال کی عمر میں بھی پوری طرح نہیں سمجھ پاتا، تو کیا آنے والی نسل کو اس سفر میں پہلے رہنمائی دی جا سکتی ہے؟ کیا ایک نوجوان کو کم عمری میں ایسے سوال سکھائے جا سکتے ہیں جو اُس کی پوری زندگی کی سمت واضح کر دیں؟
میں اس کا آسان جواب نہیں دیتا، کیونکہ ہر انسان کا سفر مختلف ہوتا ہے۔ لیکن میرا یقین ہے کہ اگر ایک نوجوان کو سوال پوچھنے، تحقیق کرنے، مشاہدہ کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کا موقع ملے، تو وہ اپنی زندگی کی سمت بہت پہلے سمجھ سکتا ہے۔
آج میں یہ نہیں کہتا کہ میں اپنی منزل پر پہنچ گیا ہوں۔ میں صرف اتنا کہتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کے سفر کی سمت پہچان لی ہے۔ اور میرے نزدیک، زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے: جب انسان دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ شاید خود کی دریافت ہی وہ سفر ہے جس سے ہر دوسری کامیابی جنم لیتی ہے۔